یہ لطف سیرِ سماوات میں نہیں آیا

یہ لطف سیرِ سماوات میں نہیں آیا

میں یوں ہی کارگہِ ذات میں نہیں آیا

سدا جو ساتھ رہا تھا ، وہی ستارۂ سبز

سفر میں آئی ہوئی رات میں نہیں آیا

کمال یہ ہے کہ وہ بھی بدل رہا ہے مجھے

جو فرق میرے خیالات میں نہیں آیا

میں ڈھونڈتا ہوا آیا ہوں زندگی اپنی

میں تم سے شوقِ ملاقات میں نہیں آیا

نجانے کب سے اسی ایک پل کے ہاتھ میں ہوں

وہ ایک پل جو کبھی ہاتھ میں نہیں آیا

دماغ ترک محبت پہ شاد تھا مرے دوست

مگر یہ دل جو تری بات میں نہیں آیا

ہزار بار محبت میں تنگ آیا مگر

ہزار شکر کہ جذبات میں نہیں آیا

میں جان دے کے بھی دنیا کو تیرا عشق نہ دوں

یہ تاجِ زر مجھے خیرات میں نہیں آیا

تمام عمر جلے ہیں کٹھالیوں میں سعود

یہ سوز عشق ہے ، اک رات میں نہیں آیا

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے