یہ کس کا لہو ہے

یہ کس کا لہو ہے
(جہازیوں کی بغاوت 1946ء)
اے رہبرِ ملک و قوم ذرا
آنکھیں تو اٹھا نظریں تو ملا
کچھ ہم بھی سنیں، ہم کو بھی بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
دھرتی کی سلگتی چھاتی کے بے چین شرارے پوچھتے ہیں
تم لوگ جنہیں اپنا نہ سکے وہ خون کے دھارے پوچھتے ہیں
سڑکوں کی زباں چلاتی ہے، ساگر کے کنارے پوچھتے ہیں
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
اے رہبرِ ملک و قوم بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
وہ کون سا جذبہ تھا جس سے فرسودہ نظامِ زیست ملا
جھلسے ہوئے ویراں گلشن میں اک آس امید کا پھول کھلا
جنتا کا لہو فوجوں سے ملا، فوجوں کا خوں جنتا سے ملا
اے رہبر ملک و قوم بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
اے رہبر ملک و قوم بتا
کیا قوم وطن کی جے گا گر مرتے ہوئے راہی غنڈے تھے
جو دیس کا پرچم لے کے اٹھے وہ شوخ سپاہی غنڈے تھے
جو بار غلامی سہہ نہ سکے، وہ مجرم شاہی غنڈے تھے
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
اے رہبرِ ملک و قوم بتا!
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
اے عزمِ فنا دینے والو! پیغام بقا دینے والو!
اب آگ سے کیوں کتراتے ہو؟ شعلوں کو ہو دینے والو
طوفان سے اب ڈرتے کیوں ہو؟ موجوں کی صدا دینے والو!
کیا بھول گئے اپنا نعرہ
اے رہبرِ ملک و قوم بتا!
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
سمجھوتے کی امید سہی، سرکار کے وعدے ٹھیک سہی
ہاں مشقِ ستم افسانہ سہی، ہاں پیار کے وعدے ٹھیک سہی
اپنوں کے کلیجے مت چھیدو اغیار کے وعدے ٹھیک سہی
جمہور سے یوں دامن نہ چھڑا
اے رہبرِ مل و قوم بتا
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
ہم ٹھان چکے ہیں اب جی میں ہر ظالم سے ٹکرائیں گے
تم سمجھوتے کی آس رکھو، ہم آگے بڑھتے جائیں گے
ہر منزل آزادی کی قسم، ہر منزل پہ دہرائیں گے
یہ کس کا لہو ہے کون مرا
اے رہبرِ ملک و قوم بتا!
یہ کس کا لہو ہے کون مرا!
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے