یہ کیسا ابر دل پر چھا گیا ہے

یہ کیسا ابر دل پر چھا گیا ہے

اداسی روح تک برسا گیا ہے

ذرا یہ برف کا کہسار دیکھو

کہ جیسے آئنہ پتھرا گیا ہے

ذرا یہ سوختہ اشجار دیکھو

کوئی غم ہے جو ان کو کھا گیا ہے

بس اب یہ دوستی ہے عمر بھر کی

وہ مجھ سے ہی مجھے ملوا گیا ہے

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے