یہ جو بیدار دکھائی دیا ہوں

یہ جو بیدار دکھائی دیا ہوں
آخری بار دکھائی دیا ہوں
وہاں مشکل تھا سنائی دیتا
شکر ہے یار دکھائی دیا ہوں
آ حراست سے چھڑا ہجراں کو
میں گرفتار دکھائی دیا ہوں
پاؤں باندھے ہیں وفا سے جب نے
تیز رفتار دکھائی دیا ہوں
جھیل میں چاند گرا تھا اور میں
جھیل کے پار دکھائی دیا ہوں
مجھ پہ تصویر لگا دی گئی ہے
کیا میں دیوار دکھائی دیا ہوں
جانتا خود کو نہیں ہوں احمدؔ
خود کو بیکار دکھائی دیا ہوں
احمد کامران 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے