یاقوت جَڑے اور کہیں الماس اُتارے

یاقوت جَڑے اور کہیں الماس اُتارے
وہ لفظ جو ہم نے سرِ قرطاس اُتارے
آ دیکھ ذرا موسمِ گریہ کا نظارہ
شاخوں سے ہوا کیسے املتاس اُتارے
ہم بھول نہ جائیں کہیں مفہومِ وفا بھی
میدان میں پھر سے کوئی عباس اُتارے
کس طرح تری یاد کو سینے سے نکالوں
کس طرح کوئی جسم سے اب ماس اُتارے
لے آئے فلک سے ترا پیغام کسی روز
آیت ہی کوئی آج کا الیاس اُتارے
اُمید کی دنیا کو پلٹ کر کبھی دیکھے
آزر سے کہو پیرہنِ یاس اُتارے
دلاور علی آزر 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے