یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا ہوا

یعنی نگارِ صبح کے پاؤں پڑا ہوا
بیکار اک چراغ ہے ضد پر اڑا ہوا
اچھا ہوا کہ پھیر لیں آنکھیں کسی نے دوست
ورنہ اترنا کب تھا یہ نشہ چڑھا ہوا
کیا وقت میرے ساتھ کوئی چال چل گیا؟
میرا ہی سایہ میرے مقابل کھڑا ہوا
خوشبو کے شب کدوں کی کہانی نہ کہہ سکا
صبحِ بدن کی شاخ سے اک گل جھڑا ہوا
ارشاد آسماں کو بھی اب سرخ کر گیا
سورج کا امتحان کچھ ایسا کڑا ہوا
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے