یکتائی کے جنگل میں بھٹکتی تنہائی

یکتائی کے جنگل میں بھٹکتی تنہائی

مَیں تنہا ہوں
مِرے پہلو میں محوِ خواب عورت بھی اکیلی ہے
اِسی جنگل جَڑی عورت کے پہلو میں
نہ جانے خواب کی کس گُدگدی سے نیند میں ہنستا ہُوا بچّہ بھی تنہا ہے
بھرے گھر کے بھرے کمروں میں یہ کمرا بھی تنہا ہے
گھروں سے گھر جُڑے ہیں’ پھر بھی دُنیا میں
یہ گھر اپنی جگہ تنہا ‘ یہ بستی بھی اکیلی ہے
حدودِ مشترک پیوَست ہیں اک دوسرے کے جسم میں’ پھر بھی
زمیں پر ملک تنہا پیں
کشِش کی ڈوریاں ہر پَل مکانی دُوریوں کو جوڑ رکھتی ہیں
خلائی آنکھ سے دیکھو زمیں کتنی اکیلی ہے!
جُڑت اک اور شے ہے اور شراکت اور ہی شے ہے
اگر کروٹ بدلتے وقت
اک پَل نیند کی سرحد پہ آ کر
خواب میں کھوئی ہوئی عورت
مِرے سینے پہ اپنا ہاتھ بھی رکھ دے تو مَیں پھر بھی اکیلا ہوں
کہ سوچوں کا’ اک اُس کا اپنا جنگل ہے’ جہاں یہ روز و شب تنہا
خیالوں کا مِرا اک اپنا صحرا ہے’ جہاں میں روز و شب تنہا
زمانہ دُور تک پھیلا ہُوا سُنسان ہے’ جس میں
سبھی یکتا و تنہا ہیں

( شہزاد نیّر )

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے