یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے

یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے

یہاں تو یہ بھی ممکن ہے
ہم اتنی دیر سے بچھڑے کبھی ملنے ملانے کو چلیں
تو بھاگ کر کوئی جدائی ساتھ ہی ہو لے
کبھی بازار کو جائیں تو تنہائی لپٹ جائے
یہاں تو یہ بھی ممکن ہے
کبھی ہم دیر سے گھر آئیں تو
باہر گلی میں بھیڑ ہو
گھر میں کوئی ماتم، کوئی کہرام برپا ہو
تو دل ٹکڑوں میں بٹ جائے
یہاں تو یہ بھی ممکن ہے
کسی میلے میں بھگدڑ سی مچے
گولی چلے
چیخیں سنائی دیں بہت
بارود پھٹ جائے
یہ جیون اور گھٹ جائے
فرحت عباس شاہ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے