یہاں رہنا معطل کرنے والا تھا کہ تم آئے

یہاں رہنا معطل کرنے والا تھا کہ تم آئے
میں دروازہ مقفل کرنے والا تھا کہ تم آئے
تمھاری آہٹوں نے لو بچائی میری آنکھوں کی
میں خود کو خود سے اوجھل کرنے والا تھا کہ تم آئے
چھتوں پر لوگ ہوتے اور میرا رقصِ تنہائی
مجھے یہ چاند پاگل کرنے والا تھا کہ تم آئے
بہت بے سایہ و بے آب لگتی تھی زمینِ دل
سو اک آنسو کو بادل کرنے والا تھا کہ تم آئے
بلا کر اک نئے شاداب چہرے کو میں کھڑکی میں
پُرانا مسئلہ حل کرنے والا تھا کہ تم آئے
تمھارے نام کی ہچکی تھی ہونٹوں پر سمٹنے کو
میں سناٹا مکمل کرنے والا تھا کہ تم آئے
لیاقت علی عاصم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے