یہاں کچھ پھول رکھے ہیں

یہاں کچھ پھول رکھے ہیں

اس تقریب میں شرکت کے دعوت نامے کے ساتھ جب مجھے مطلع کیا گیا کہ میرے تقریباتی فرائض خالصتاً رسمی اور حاشیائی ہوں تو مجھے ایک گونہ اطمینان ہوا۔ ایک گونہ میں رواروی میں لکھ گیا، ورنہ سچ پوچھئے تو دو گونہ اطمینان ہوا۔ اس لئے کہ مجھےاطمینان دلایا گیاکہ رسم اجرا نہایت مختصر وسادہ ہو گئی۔ اس میں وہی ہو گا جو اس طرح کے شاموں میں شایان شان ہوتا ہے یعنی کچھ نہیں ہو گا۔ بس صاحب شام (میں نے جان بوجھ کر صاحبہ شام نہیں کہا) شاہدہ حسن کی تاج پوشی نہیں ہو گی۔ میرے تردّدتامّل اور اس وضاحت کا سبب یہ تھاکہ ایک ہفتے قبل میں شاہدہ کا ایک خیال انگیز تعارفی مضمون مخدومی ومکرمی جناب جاذب قریشی کی تاج پوشی کی تقریب سعید میں سن چکا تھا۔ جاذب صاحب کی شاعری اور تنقید کا دل پذیر سلسلہ، نصف صدی کا قصہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔ ایک عمر کےریاض، مہارت تامّہ،ژرف نگاہی، وضعداری اور ادبی سیر چشمی کی جتنی تعریف کی جائے، کم ہے۔ تعجب اس پر ہواکہ جیسا تاج پیرو مرشد کوعقید تمندوں نے پہنایا، ویسا تاج امریکہ میں حسینئہ عالم کو اور پنجاب میں صرف دلہن کو پہنایا جاتا ہے۔ دولہا کے سر پر تو سہ غزلے کی لمبائی کے برابر اونچی طرّے دار کُلاہ ہوتی ہے۔ پنجاب میں اگر دولہا ایسا زنانہ تاج پہن کرآجائے تو قاضی نکاح پڑھانے سے انکار کر دے گا۔اور اگر نکاح ایک دن قبل ہو چکا ہے تو دلہن والے نکاح ٹوٹنے کا اعلان کر دیں گے۔ دلہن اپنے بائیں دستِ حنائی سے دائیں ہاتھ کی ہری ہری چوڑیاں توڑ دے گی اور دائیں ہاتھ سے بائیں کی۔ پھر اُن ہی سونٹا سے ہاتھوں سے دھکّے دے کر ہریالے بنڑے کو عقد گاہ سے یہ کہہ کر باہر نکال دے گی کہ

عقد عقد سمجھ مشغلئہ دل نہ بنا

برات کو رات کے ساڑھے گیارہ بجے، کوکا کولا کی بوتل پلائے بغیر کھڑے کھڑے واپس کر دیا جائے گا۔ تاج اور ادھورے ویڈیو سمیت!

تاج پوشی کی تصویریں کلِک کلِک کر کھنچنے لگیں تو مجھے یہ فکر لاحق ہوئی کہ اگرخدا نخواستہ یہ پنجاب کے اخباروں میں چھپ گئی تو لوگ کہیں گےکہ کراچی کےاہل زبان حضرات بزرگوں کے ساتھ دلہنوں کا سلوک کرتے ہیں اورعَرُوسی زیورات کےاستعمال میں تزکیروتانیث کاذراخیال نہیں رکھتے!جب کےالفاظ کےنرومادہ نہ پہچاننے پراب بھی لے دے ہوتی ہے۔

ہم نے دیکھاکہ حضرت جاذب براتِ دلداگاں میں گھِرے، تصویریں کھچوا رہےتھےتو ہمارے دوست پروفیسر قاضی عبدالقدوس ایم۔اے۔ بی۔ ٹی کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے وہ گھر میں ہوتے ہیں تو اسی حصّہ جسم پر معصوم بچے لوٹتے ہیں۔ مرزا نے ہمارے کان کو ہاتھ سے اپنے منہ کے قریب کھینچ کراُن شعراء کے نام گنوائے جو حسد سے جلے مررہے تھے۔کہنے لگےکہ حاسدین کی فہرست میں ایک نثر نگار کا نام بھی ہے۔ پوچھا بھلا کون؟ بولے مشتاق احمد یوسفی۔پھراکبرالہٰ آبادی کےاشعار اپنی تحریف وہ سکتے کے ساتھ سنائے:

اوجِ بختِ مُلاقی اُن کا

چرخ ہفت طباقی ان کا

محفل وتاج طِلائی اُن کا

آنکھیں میری باقی اُن کا

یہ معروضات ازراہِ تففّن نہیں ہیں۔اگر سِن وسال کا بیّن تفاوت راہِ حسنِ عقیدت وارادت مندی میں حائل نہ ہوتا تومیں محترم المقام جناب جاذب قریشی اور ان کے استاد مکّرم، بلکہ استاذالاساتذہ حضرت فرمان فتح پوری کواپنا پیرومرشد کہنے میں فخرمحسوس کرتا۔ اورواقعہ یہ ہےکہ اُسی رشتہ ارادت ونیازمندی کے باعث رسم تاج پوشی کچھ عجیب سی لگی۔ یادش بخیر، تیس پینتیس برس اُدھرکی بات ہے۔ایسی ہی تاج پوشی ایک شاعرہ مس بلبل کی ہوئی تھی جو اپنے والد کے ہم راہ اندرون سندھ سے تشریف لائی تھیں۔ ان کے سرپرابنِ انشا نے دستِ خاص سے تاج رکھا اورملِکہ تغّزل کے لقب سے نوازا۔ اپنے تیکھے انداز میں ایک مضمون بھی پڑھا جسے مدحیہ ہجویاہجویہ قصیدہ کہا جائے تو دونوں تعریفیں درست ہوں گی۔ بعد کو ابن انشا نے مِس بُلبُل پر چار پانچ مز یدار کالم بھی لکھے۔ اس زمانے میں مس بلبل اور ہیرڈریسرز انجمن کے صدرسلمان، ان کے کالموں کے دل پسند موضوع تھے۔ ہال کا کرایہ، باسی سموسوں اور خالص ٹین کے تاج کی قیمت خود ملکۂ عالیہ نے جیبِ خالص سے ادا کی۔ رہی ان کی شاعری تو اتنا اشارہ کافی ہے ملکئہ اِقلیم سخن کی طبعِ آزاد، عروض کی غلام نہ تھی۔ غزل میں دورنگی نہیں پائی جاتی تھی۔ مطلب یہ کہ مطلع سے مقطع تک ہرشعروزن اوربحرسے یکساں خارج ہوتا تھا۔ پڑھتے وقت ہاتھ،آنکھ اوردیگراعضاء سےایسےاشارےکرتیں کہ شعرتہذیب سے بھی خارج ہو جاتا! ان اشاروں سے شعرکا مطلب تو خاک سمجھ میں نہیں آتا، شاعرہ کا مطلب ہم جیسے کُند ذہنوں کی سمجھ میں بھی آ جاتا تھا۔ بے پناہ داد ملتی جسے وہ حُسنِ سماعت سمجھ کرآداب بجا لاتی تھیں۔ وہ دراصل ان کے حسن وجمال پرواہ واہ ہوجاتی تھی۔ بقول مرزاعبدالودود بیگ، سامعینِ بےتمکین کےمردانہ جذبات کے فی البدیہہ اخراج کو خفیفہ خراجِ عقیدت سمجھتی تھی!لوگ انہیں مصرع طرح کی طرح اٹھائے اٹھائے پھرتے تھے۔

تقریب اجرا کا ماجرا قدرے تفصیل سے بیان کرنے کی دو وجہیں ہیں۔اوّل،یہ کہ میرے خشگوار فرائض رسمِ اجرا ہی سے متعلق ہیں۔دوم، قوی اندیشہ ہےکہ اگرتاجِ شہی کے وصول کُنندگان اور تاج دہند گان کی بر وقت حوصلہ شکنی نہ کی گئی تو یہ بدعتِ فاخرہ یعنی رسم تاج پوشی اب ہرتقریب رونمائی و اجراکالازمی حصّہ بن جائے گی، جس سے صرف ہر دو قسم کے ان کا ریگرانِ باکمال کو فائدہ ہوگا جو چاندی پر سونے کا ایسا ملمّع کرتے ہیں کہ

نسیمِ صبح جو چھو جائے، رنگ ہو میلا

(دستِ نقّاد جو چھو جائے، رنگ ہو میلا)؟

جواہلِ قلم اب تک کمالِ فن،تمغہ حسن کارکردگی،ہلالِ امتیازاوراکیڈمی آف لیٹرس کے انعامات کے لئے تگ ودَو کرتے اورآپس میں لڑتے بھِڑتے رہتے ہیں وہ اب تاج اورمنصبِ تاجوری کے لیے ایک دوسرے سے برسرِ پیکارپیزارہوں گے۔ ایک دوسرے کے کام اورکلام الملوک ملوک الکلام میں پورے مصرعے کے برابر لمبے کیڑے نکالیں گے۔مجھ جیسا ہرگیا گزارادیب اورشاعرخود کوRY Aکے ۲۲ کیریٹ گولڈ کے تاج کا اکلوتا حق دار قراردے گا۔

انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے تاج!

کیسی یہ انوکھی بات!

مرزاعبدالودود بیگ کہتے ہیں کہ چھوٹے بڑے اوراچھے بُرے کی قید نہیں، اصلی شاعر کی پہچان ہی یہ ہےکہ وہ اپنے علاوہ صرف میراورغالب کواوپری دل سے شاعر تسلیم کر لیتا ہے۔ وہ بھی محض اس لیےکہ وہ بروقت وفات پا چکےہیں۔بروقت سےمراد اِن کی پیدائش سے پہلے۔

صاحبو، غزل کی زمین کی ہمیشہ یہ خاصیت رہی ہے

ذرا نم ہو تو یہ مِٹّی بہت زرخیز ہے ساقی

خدشہ ہےکہ تاج پوشی کی رسم اس زردوز زمین میں جڑ پکڑ گئی تو صرف کراچی میں ہی اِقلیم سُخن کے پانچ چھ سو تاجدار نظر آئیں گے۔ بے تخت وسلطنت! جھوٹ کیوں بولیں۔ ہم خود بھی 22 کیرٹ گولڈ سے الرجک نہیں ہیں۔تاج کو پگھلا کر روٹھی ملِکہ کےلیے پازیب بھی تو بنوائی جا سکتی ہے۔

جہاں اتنے تاج داروں کی گھمسان کی ریل پیل ہو، وہاں خون خرابا لازمی ہے۔ بادشاہ لوگ نیشنل اسٹیڈیم میں ایک دوسرے کے تاج سے فٹبال کھیلیں گے۔اورایک دوسرے کے دیوان اور ناول ان کے سرچشمے یعنی متعلقہ سرپہ دے ماریں گے۔ طوائف الملوکی کا یہ عالم ہو گاکہ وہ مخلوق بھی جس کا نام اس بدنام محاورے میں آتا ہے، اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھے گی۔دلہنیں تاج پہننا چھوڑ دیں گیں۔ محض اس ڈر سےکہ تاج دیکھتے ہی لوگ ان سے تازہ غزل یا نیا مزاحیہ مضمون سنانے کی فرمایش کر دیں گے۔

ناں، بابا ناں، ہمیں تاج سے زیادہ اپنا سرعزیز ہے۔

صاحبو،اصل بات یہ ہےکہ ہمارے بادشاہ اورشہنشاہ تو مدتیں ہوئیں ایک بغل میں تاج شہی اور دوسری میں نعلّین دبائے رخصت ہوئے مگر ہماراجذبہ اطاعت وبیعت سلطانِ وقت اورمٹی کے پیروالوں کی قدم بوسی کی صدیوں پرانی عادت برقرار ہے۔ رعب اوردبدبہ شاہی دل کی پاتال گہرائیوں میں جاگُزیں ہے۔ تجربہ کار سائنس اورسلوتری کہتے ہیں کہ بعض گھوڑے سواری دینے کے اتنے عادی ہو جاتے ہیں کہ اگران پر کوئی سوار نہ ہو تو دو قدم نہیں چل سکتے۔ اپنی چال بھول جاتے ہیں۔وِراثت میں ملا جذبہ محکومیت اتنا راسخ ہےکہ بادشا ہی ہمارے نزدیک انسانی کمال وفضیلت اوربرتری کی معراج ہے۔ اوراس کا اطلاق عالموں، کاملوں اور فن کاروں پر بھی ہوتا ہے۔چنانچہ جب تک ہم اپنے محبوب فن کارکوشہنشاہِ غزل، ملکۂ ترنم، اور ملکۂ غزل کے لقب سے نہ نوازیں اورتاج شہی ان کے سر پر نہ رکھیں،ہماری تسکین نہیں ہوتی۔اگلے وقتوں میں عورتیں اگرشوہروں کو خط میں سرتاجِ من سلامت کہہ کرمخاطب کرتی تھیں تو بالکل بجا تھا۔ اس لیےکہ تاج خاص خاص موقعوں پرپہننے کے بعد اتارکررکھ دیا جاتا ہے۔ بد بخت ہوتا بھی اسی لائق ہے۔

ہمارے سنتری بادشاہ سے لےکررئیس المتغزلین،بادشاہِ حسن، شاہِ خوباں اور شاہِ شمشاد قداں تک اسی کمپلیکس کی کار فرمائی بلکہ شاہ فرمائی نظر آتی ہے۔ اور تو ایک صاحب شہنشاہ ظرافت کہلاتے ہیں۔میرا اشارہ اپنی طرف نہیں ہے۔ ظریف آدمی court jester اور فالسٹاف تو ہو سکتا ہے، تخت پر نہیں بیٹھ سکتا۔ ہاں تاج وتخت یا ہماری طرح ملازمت چھننے، چھوٹنے یا چھوڑنے کے بعد ظرافت پر اتر آئے تو بات نہ صرف سمجھ میں آتی ہے بلکہ دل کو بھی لگتی ہے۔

بات پرانی ہوئی، اس لیےکہ آتش اُس زمانے میں بھی جوان نہیں تھا۔ ایک ناظرین کے دل سے اور سِن سے اُتری ایکٹریس ملکہ جذبات کہلاتی تھیں وہ اس مرحلے سے گزر رہیں تھیں جب،مرد ہو یا عورت،صرف جذبات پر ہی گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ میں یہ تو نہیں بتا سکتاکہ کسی خاتون کو عمر کے کس مرحلے میں ملکہ جذبات کہا جا سکتا ہے۔ اتنا ضرور عرض کر سکتا ہوں کہ کم وبیش 70 برس کے بعد ننانوے فی صد مرد غالبؔ کی طرح اُس عمرِ یاس کو پہنچ جاتے ہیں جس کی طرف اس نے اپنے شعر میں (ہماری تحریف کے ساتھ) اشارہ کیا ہے۔

منفعل ہوگئے قوی غالبؔ

اب عناصر میں ابتزال کہاں

جب آخرِ شب کے ہم سفراس منزل نامقصود پرپہنچتے ہیں تو ہر مرد نراشہنشاہِ جزبات ہوکےرہ جاتا ہے۔ نگہ بلند، سخن دل نواز،جاں پُرسوزاورجذبات گھوڑے کے سے اور یہ جو ننانوے فی صد کی قید ہم نے لگائی ہے تو دانستہ ہے۔ ایک فی صد کی گنجائش داستشنابپاس خاطرِنازک خیالاں رکھا ہے۔ آخر اپنا بھی تو خیال رکھنا پڑتا ہے۔

“اک تارہ ہے سر ہانے میرے” سے “یہاں کچھ پھول رکھے ہیں” میں سات برس کا وقفہ اور سات ہزار میل کا فاصلہ ہے۔سفراورہجرت اس کا خاص موضوع بھی ہے جس کےاطراف وہ رہ رہ کر لوٹتی ہیں۔شعرکے موضوع کی حیثیت سےسفراورہجرت میں کوئی مضائقہ نہیں،مگر شرط یہ ہےکہ مسافت طے کرتے وقت قدم قدم پراحساس مُسافرت ڈنک نہ مارے۔ بعد کہیں ایسا نہ ہوکہ اس طرح ہجرت باعث‘صد’خیر وبرکت ہے بشرط یکہ ہجرت کے بعد احساس وعزابِ مہاجرت میں اس حد تک نہ مبتلا ہو جائےکہ حاضروموجود سےآنکھیں پھیر لے۔ شاہدہ کا سفر کیسا گزرا،انہیں سے سنیئے:

اگرچہ زعم مجھے بھی بہت سفر کا ہے

کمال سارا مگر اس کی رہ گزر کا ہے

ہاتھ آنکھوں پہ دھرے چلنا تھا

راستہ دیکھتی جاتی کیسے

‘‘سات سمندر کی دوری سے ایک نظم” اداس کر دینے والی نظم ہے “دور افتادہ زمینوں میں انہیں اپنے شہر کی یاد” ستاتی ہے۔

اشکوں کی روانی میں ڈوبا ابھرا وہ شہر

چہرہ چہرہ مجھ میں تصویر ہوا وہ شہر

کراچی شہربڑاالبیلا،انوکھا اوراوکھا شہرہے۔بہت ظالم شہرہے۔انسان جب تک اس شہرمیں رہتا ہےشاکی ونالاں ہی رہتا ہے۔ جب وہ اسے چھوڑدیتا ہے تواُس پرکُھلتا ہےکہ اب وہ کسی اورشہرمیں رہنے کے لائق نہیں رہا۔پھریہ شہرکوہِ نداکی ماننداُسےبلاتا ہےیااخی، یا اخی یااخی!اوروہ کھنچا چلا جاتا ہے۔

جب بیسویں صدی کا بھولااکیسویں صدی میں گھرلوٹتا ہےتوایک سال میں پوری ایک صدی اپنا ورق بدل چکی ہوتی ہے۔

میں جب گھرآئی ایک سال کےبعد

سانسیں لیں کمروں نے،بستر جاگ گئے

یہ کتاب زیادہ آٹوبایوگرافیکل اُن معنوں میں بھی ہےکہ شاہدہ کی maturity اوراختیاری جلا وطنی کی روداد ہے۔

مغرب میں فیمی نزم درحقیقت ایک سماجی، سیاسی اور معاشی تحریک تھی جس کی بانی ومحرک وہر ادل اہل قلم خواتین بہنیں تھیں۔میرےنزدیک feminism نسائیت کامتبادل نہیں۔نسائیت اور نسوانیت feminity کا مترادف متبادل ہو سکتی ہے،feminism کا ہرگزنہیں۔female feminine شاعری اورادب کااپنا مقام ہے۔ feminist بالکل علاحدہ صنف ہے لیکن ایک دوسرے پربرتری وفوقیت کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ فیمی نزم کے ساتھ عام طور سے strident aggressive/ abrasive یعنی متشدد اور جارحانہ اورمردآزارکی صفات استعمال کی جاتی ہے۔ہمارے شاعرات ادا جعفری، زہرا نگاہ، پروین شاکر، شاہدہ اورفاطمہ حسن کی شاعری کو feminist poetry نہیں کہا جا سکتا۔ ان کی ثقافتی روایت یا پرم پرا مہذب وشائستہ لہجہ اُنہیں وہ اسلوب ڈکشن اور انداز بیان اختیار کرنے میں مانع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جو فیمی نزم کی سب سے نامورادیبہ مصنفہ Germen Greer مصنفہ The Female Eunuch کی چھاپ بن چکا ہے زہرا نگاہ عورت کے دکھ درد کا پورا احساس وادراک اور اس کے مصائب ومسائل سے ماہرانہ واقفیت رکھتی ہیں، لیکن ساتھ ہی وہ سمجھوتے کی چادر بُننا اوراسے سلیقے سے بچھانا، اوڑھنا اور استعمال کرنا جانتی ہیں:

اسی سے میں بھی تن ڈھک لوں گی اپنا

اسی کو طان کر بن جائے گا گھر

بچھا لیں گے تو کِھل اٹھے گا آنگن

اٹھا لیں گے تو گر جائے گی چلمن

یہ فیمی نزم نہیں،اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔اس کے تانے بانے میں صدیوں کی سہار، قرنوں کی بصیرتوں اورایک با وقار شیوہ تسلیم ورِضا کے تار جھلملاتے ہیں۔

شاہدہ کے ہاں وہ وصف تو ہے جسے اب نسائی حسیّت سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن جارحانہ feminism کا شائبہ نہیں۔ نسائی حسیّت اور feminism کو اس منزل تک آنے میں کئی صبر ومردآزما مرحلوں سےگزرنا پڑا۔اداجعفری کی دل آویزحسرت دیکھئے۔

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

آئے توسہی بر سرِالزام ہی آئے

پھراس کا موازنہ فہمیدہ ریاض کے بوسے سے کیجیے جس کے دوران یوں محسوس ہوتا ہے جیسے “تم۔۔۔۔ پاتال سے میری جان کھینچتے ہو۔” ہونٹوں پر نام آئے سے پیار کی پاتال گہرائیوں تک اترنے میں دو نسلوں اور نہ جانے کتنی ذہنی صدیوں اورموروثی inhabitations کا فاصلہ ہے۔یہ جوگ بیراگ اور جنم جنم کی پیاس سے بھوگ بِلاس تک کا سفر ہے۔اسی سفرِپُرخطرمیں ایک اورجرأت مند شاعرہ محوِ خرام نظر آتی ہے جو سب کچھ چھپا کر سب کچھ دکھا دینے کا ہنر سیکھ رہی ہے۔

میں یہ بھی چاہتی ہوں تراگھربسا رہے

اور یہ بھی چاہتی ہوں کہ تو اپنے گھر نہ جائے

مرزا کب چُوکتے ہیں۔کہتے ہیں کہ یہ خواہش توتمہارے رومینٹک vegetarianism کی مانند ہے۔ تم دراصل یہ چاہتے ہوکہ جس مرغے کو روسٹ تم شام کو کھاؤ، وہی مرغا صبح اٹھ کراذان بھی دے! مطلب یہ کہ ذبح کیے بغیراس کا گوشت کھانا چاہتے ہو۔

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے