یاد نہ آؤ صبح و شام

یاد نہ آؤ صبح و شام
اور بھی ہیں دنیا کے کام
ایسی پیاس کا کیا ہو گا
جب بھی دیکھو تشنہ کام
کوئی تیری بات کرے
ہم پر آتا ہے الزام
کتنے فسانوں کا عنواں
میری نظریں تیرا بام
چپکے چپکے دل سے گزر
دیکھ نہ لے دور ایام
اتنا جرم نہ تھا باقیؔ
جتنے ہوئے ہیں ہم بدنام
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے