یارجو بھی مرے قریں کے ہیں

یارجو بھی مرے قریں کے ہیں
سانپ میری ہی آستیں کے ہیں
پانی ، جس نے مجھے ڈبویا ہے
اشک وہ بھی اُسی حزیں کےہیں
کب کی میں نےترک محبت کی
جھوٹےوعدےجواُس حسیں کےہیں
تیغ بھی آب دار ہے اُس کی
زخم کاری بھی دل نشیں کےہیں
میرے دل میں سدا وہ رہتا ہے
سارےمسکن اُسی مکیں کےہیں
آنکھ بھی اک نظر نہیں آتی
بال بکھرےجو مہ جبیں کےہیں
میل تھا دو گھڑی کا بس ورنہ
وہ کہیں کے تو ہم کہیں کے ہیں
آسماں پہ سُنا وہ رہتے ہیں
ہم تو عاجز اِسی زمیں کے ہیں
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے