یار ہے میر کا مگر گل سا

یار ہے میر کا مگر گل سا
کہ سحر نالہ کش ہے بلبل سا
یاں کوئی اپنی جان دو دشوار
واں وہی ہے سو ہے تساہل سا
دود دل کو ہمارے ٹک دیکھو
یہ بھی پر پیچ اب ہے کاکل سا
شوق واں اس کے لمبے بالوں کا
یاں چلا جائے ہے تسلسل سا
کب تھی جرأت رقیب کی اتنی
تم نے بھی کچھ کیا تغافل سا
اک نگہ ایک چشمک ایک سخن
اس میں بھی تم کو ہے تامل سا
بارے مستوں نے ہوشیاری کی
دے کے کچھ محتسب کا منھ جھلسا
شرم آتی ہے پہنچتے اودھر
خط ہوا شوق سے ترسل سا
ٹوٹی زنجیر پاے میر مگر
رات سنتے رہے ہیں ہم غل سا
میر تقی میر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے