Yaad Rakh Deeda Tar

یاد رکھ دیدۂ تر اشک جو نکلا کوئی

محفل ِ غیر میں ہو جائے گا رسوا کوئی

ہاتھ اٹھانے لگے دامن پہ قیامت والے

منہ چھپائے ہوئے، جب حشر میں آیا کوئی

کل مریضِ شبِ فرقت کی عجب حالت تھی

کوئی خاموش تھا، مصروفِ دعا تھا کوئی

پتلیاں پھر گئی تھیں چھوٹ گئی تھیں نبضیں

تم نہ آ جاتے، تو ہاتھوں سے چلا تھا کوئی

کر گئے کام قیامت کا شبِ غم نالے

رہ گیا تھام کے ہاتھوں سے کلیجا کوئی

صورتِ آئینہ تصویرِ تحیر بن کر

دیکھتا تھا تری محفل کا تماشا کوئی

اے قمر بعد میرے یہ بھی کسی سے نہ ہوا

چار پھول آ کے جو تربت پہ چڑھاتا کوئی

قمر جلال آبادی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے