یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے

یاد ہیں سارے وہ عیشِ با فراغت کے مزے

دل ابھی بھولا نہیں، آغازِ الفت کے مزے

وہ سراپا ناز تھا ،بے گانۂ رسمِ جفا

اور مجھے حاصل تھے لطفِ بے نہایت کے مزے

حسن سے اپنے وہ غافل تھا، میں اپنے عشق سے

اب کہاں سے لاؤں وہ نا واقفیت کے مزے

میری جانب سے نگاہِ شوق کی گُستاخیاں

یار کی جانب سے آغازِ شرارت کے مزے

یاد ہیں وہ حسن و الفت کی نرالی شوخیاں

التماسِ عذر و تمہیدِ شکایت کے مزے

صحتیں لاکھوں مری بیماریِ غم پر نثار

جس میں اٹھے بار ہا ان کی عیادت کے مزے

حسرت موہانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے