یادِ خوش رنگ سے کُچھ ایسے اُجالی میں نے

یادِ خوش رنگ سے کُچھ ایسے اُجالی میں نے
ہِجر کی شام بنا لی ہے وصالی میں نے
رختِ پرواز کی آسودگی اوروں کو مِلی
عمر بھر جھیلی مگر بے پر و بالی میں نے
رنگ جِتنے تھے، چُرا لے گئی دنیا تیرے
جتنی خوشبو تھی مِری جان ! سنبھالی میں نے
دل مِلا ہے تِری یادوں میں دھڑکنے والا
آنکھ پائی ہے تُجھے دیکھنے والی میں نے
تیری تصویر تو کر دے گی تجھے بھی حیراں
رنگ ہی ایسے بَھرے آج مثالی میں نے
کوئی دیکھے تو مِری آنکھ سے دیکھے اُس کو
ایک بَستی جو بَسائی ہے خَیالی میں نے
شمشیر حیدر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے