یاد

یاد
بے یقیں شاموں کی تنہائی میں اب بھی
بے صدا صبحوں کی پہنائی میں اب بھی
میرے اندر سے کوئی تجھ کو
تسلسل سے بلاتا ہے
مگر فرقت کی سِل ہٹتی نہیں ہے
(دھند چھٹتی ہی نہیں ہے)
اپنے دل کی بے بسی
کب رو سکوں، کب کہہ سکوں میں
منتظر آنکھوں میں اکثر
اشک چبھنے لگتے ہیں
ان میں گلابی رنگ سجنے لگتے ہیں
تیرے لیے ہم پھر
بکھرنے لگتے ہیں !!!
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے