وہی ہے دل کی ضرورت جو آس پاس رہے

وہی ہے دل کی ضرورت جو آس پاس رہے
کسی کے ہجر میں کب تک کوئی اداس رہے
نہ وحشتوں کو رہا ہے خیالِ رسوائی
نہ کوئے یار کے سنگ آئینہ شناس رہے
جنہیں جنوں کی حقیقت سے آگہی نہ ملی
وہ غم شناس ہوئے بھی تو کم شناس رہے
وفا کی راہ میں زخموں کی پاسداری تھی
سو اہلِ درد محبت میں نا سپاس رہے
نصیبِ دل تھے عجب فاصلے محبت میں
نہ اس سے دور رہے ہم نہ اس کے پاس رہے
اس احتیاط سے جی بھر کے اس کو دیکھ سعید
نظر جو سیر بھی ہو تو ذرا سی پیاس رہے
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے