وہ رگ دل میں رگ جاں میں رہے

وہ رگ دل میں رگ جاں میں رہے
پھر بھی ہم ملنے کے ارماں میں رہے
نیند کانٹوں پہ بھی آ جاتی ہے
گھر کہاں تھا کہ بیاباں میں رہے
رنگ دنیا پہ نظر رکھتے تھے
عمر بھر دیدۂ حیراں میں رہے
بُعد اتنا کہ تصور بھی محال
قرب ایسا کہ رگ جاں میں رہے
عمر بھر نور سحر کو ترسے
دو گھڑی تیرے شبستاں میں رہے
قافلے صبح کے گزرے ہوں گے
ہم خیال شب ہجراں میں رہے
کس قیامت کی تپش ہے باقیؔ
کون میرے دل سوزاں میں رہے
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے