Woh Agaaz E Mohabbat Ka Zamana

وہ آغازِ محبت کا زمانہ

ذرا سی بات بنتی تھی فسانہ

قفس کو کیوں سمجھ لوں آشیانہ

ابھی تو کروٹیں لے گا زمانہ

قفس سے بھی نکالا جا رہا ہوں

کہاں لے جائے دیکھو آب و دانہ

غرور اتنا نہ کر تیرِ ستم پر

کہ اکثر چوک جاتا ہے نشانہ

اگر بجلی کا ڈر ہو گا تو ان کو

بلندی پر ہے جن کا آشیانہ

کہانی دردِ دل کی سن کے پوچھا

قمرؔ سچ کہہ یہ کس کا ہے فسانہ

قمر جلال آبادی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے