وہ پیلے پیڑ کیوں روئے

وہ پیلے پیڑ کیوں روئے
مسافر تم ذرا سوچو ،
یہ اجلی دھوپ جاتے پل
وہ پیلے پیڑ کیوں روئے !
گلابی پھول کھلتے پل، وہ پیلے پیڑ کیوں روئے !
گھنیری شام اپنی زلف کے سائے میں چھپتی ہے
سمندر، بند آنکھوں سے اگر اپنے پپوٹوں میں
کبھی لبریز ہوتا ہے
اگر سوچوں کی لہریں، رفتہ رفتہ ٹوٹ جاتی ہیں
تو قسمت کے سرابوں پر،
اڑی رنگت کے چھینٹوں پر
وہ پیلے پیڑ کیوں روئے !
وہ مدھم چاند کیوں خنجر لیئے چھپ چھپ کے چلتا ہے
محبت چاندنی بن کر،جب اس کے دل میں رہتی ہے
تو پتھر ہاتھ میں پا کر، وہ پیلے پیڑ کیوں روئے !
بہت پر خار ہیں رستے ، بہت بیزار ہیں رستے
جدائی کی فصیلوں سے گزرتے بادلوں کی بجلیوں کو بھول بیٹھے ہیں
جنھیں تم بھول بیٹھے ہو،
وہ اب واپس نہ آئیں گے
کبھی واپس نہ آئیں گے ،
وہ واپس آ نہیں سکتے
شگوفے کھل رہے ہیں پھر
کوئی رت بھی نہیں نیلی
کسی ناسور لمحے پر، نہیں یہ آنکھ اب گیلی
اک استفسار باقی ہے
وہ پیلے پیڑ کیوں روئے ۔۔۔؟
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے