وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں

وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں
ہوں وہم جدائی سے عجب رنج و محن میں
مقصود زیارت ہے اگر کعبۂ دل کی
ہو گرم سفر ناحیۂ ملک وطن میں
وہ قامت دل کش ہے عجب فتنۂ عالم
چھپتا ہی نہیں پیرہن نود کہن میں
اے شمع بہا اشک چھپا راز محبت
خاکستر پروانہ ہے بیتاب لگن میں
شورش مری بے جا ہے نہ فریاد نکمی
رونق ہے ذرا نالۂ بلبل سے چمن میں
تاثیر ہو کیا خاک جو باتوں میں گھڑت ہو
کچھ بات نکلتی ہے تو بے ساختہ پن میں
کم تر ہے دو و دام سے انساں بہ مراتب
ہر دم جو ترقی نہ کرے چال چلن میں
ہوں میں تو وہی معتکف گوشۂ عزلت
حالانکہ مرا ریختہ پہونچا ہے دکن میں
یہ سچ ہے کہ سودا بھی تھا استاد زمانہ
میری تو مگر میرؔ ہی تھا شعر کے فن میں
اسماعیلؔ میرٹھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے