وہ نہیں جانتے جب وفا، کیا کریں

وہ نہیں جانتے جب وفا، کیا کریں
بات اتنی سی ہے، دل بُرا کیا کریں
ایک مدّت سے اُس کی نہیں ہے خبر
دل ہمارا ہُوا لا پتہ، کیا کریں
جب نہیں حوصلہ بن تیرے جینے کا
پھر بھلا زندگی کی دعا کیا کریں
بھولنا تجھ کو اتنا بھی آساں نہیں
سخت مشکل ہے، تُو ہی بتا کیا کریں
گَرد ہی گَرد تھی ہجر کی چار سُو
دشتِ غم پھیلتا ہی گیا، کیا کریں
سسکیاں سی کہیں دل میں ہیں گونجتیں
لا دوا درد کی ہم دوا کیا کریں
ہے عجب کس قدر عشق کی داستاں
اُن سے ہم، وہ ہیں ہم سے خفا، کیا کریں
کس اذیّت سے دو چار ہیں رات دن
کچھ بتا تُو ہی بہرِ خُدا، کیا کریں
ضبط ٹوٹا نہیں ہے ابھی تک، مگر
غم سے بوجھل ہیں سانسیں، بتا کیا کریں
بُجھ چکے ہوں جب اپنے ہی گھر کے دئیے
تیرگی کا کسی سے گلہ کیا کریں
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے