وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے

وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے
دست ساحل سے سمندر نہیں جانے دیتے
سطح پر آئے ہوئے بن کے کف و موج و حباب
زیر دریا یہی گوہر نہیں جانے دیتے
ہیں مری راہ کا پتھر مری آنکھوں کا حجاب
زخم باہر کے جو اندر نہیں جانے دیتے
مجھ کو اس گنبد بے در سے پرے کا بھی ہے ذوق
یہ مرے بال مرے پر نہیں جانے دیتے
حد افلاک پہ جا کر تو صدا دے آیا
مگر افلاک سے اوپر نہیں جانے دیتے
خورشید رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے