مجھے بناتا ہے میری جیسی نہیں بناتا

مجھے بناتا ہے میری جیسی نہیں بناتا
وہ کوزہ گر اب عجیب مٹی نہیں بناتا
اگر اسے علم ہوتا تیری کشادگی کا
وہ پانیوں پہ قدیم کشتی نہیں بناتا
جو چاہتا ہے تمہیں خبر ہو خمار کیا ہے
وہ بارشیں بھیجتا ہے چھتری نہیں بناتا
تمہاری خوشبو سے جس کے شانے مہک رہے ہوں
وہ صندلوں سی عظیم لکڑی نہیں بناتا
پھر اس نے اک دن تمہاری آنکھوں سے دنیا دیکھی
اور اب خدا بھی ادھیڑ عمری نہیںبناتا
یہاں پہ بودھی کے پیڑ اگتے ہیں اس لیے تو
ہماری بستی میں کوئی آری نہیں بناتا
جو مجھ سے کہتا تھا تیری خاطر بنائی دنیا
وہ سچا ہوتا تو اِس کو اندھی نہیں بناتا
جو ایک پل کو تمہارے قدموں میں بیٹھ جائے
زمین والوں کو اپنا قاری نہیں بناتا
وہ اپنی تنہائی بانٹ سکتا نہیں کسی سے
وہ آسماں تک تبھی تو سیڑھی نہیں بناتا
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے