وہ مور پنکھ سے ہر زخم جھلنے جائے گا

وہ مور پنکھ سے ہر زخم جھلنے جائے گا
سلگتی آگ سے زندہ نکلنے جائے گا
رکی رکی ہے پتنگوں کی سانس آج کی رات
تھرکتی شمع پہ اب کون، جلنے جائے گا
دلوں کے سب در و دیوار توڑ کر یہ وقت
محل کو اور کھنڈر میں بدلنے جائے گا
خزاں جب آئے گی، تو پھول پھول کا جوبن
کہاں بہار کے سانچے میں ڈھلنے جائے گا
ہمیں کو آگ لگا کے ، چلا گیا ہے کہیں
کہا تھا جس نے مرے ساتھ جلنے جائے گا
تمام چاند ستاروں کے دن معین ہیں
اندھیرا ان کو بھی آخر نگلنے جائے گا
بہت دنوں سے یہ آنسو رکے تھے نیناں میں
سمندر آج ، نگینے اگلنے جائے گا
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے