وہ ملا تھا اور بس کچھ بھی نہیں

وہ ملا تھا اور بس کچھ بھی نہیں
واہمہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
دھڑکنوں کا ساز تھا بجتا رہا
رابطہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
اک سرے سے دوسرے تک زندگی
سلسلہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
جا ملے تھے قافلوں سے قافلے
فاصلہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
منزلیں پر پیچ تھیں پر خار تھیں
بس خدا تھا اور بس کچھ بھی نہیں
جل رہا تھا ایک گھر مجبور تھی
حادثہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
نیند تھی جو خواب میں تحلیل تھی
آئینہ تھا اور بس کچھ بھی نہیں
ثمینہ گُل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے