وہ مرے زیرِاثر زندہ رہا

وہ مرے زیرِاثر زندہ رہا
اک دِیا جو رات بھر زندہ رہا

اس کے جانے کی خبر پھیلی تو پھر
جو کوئی تھا بے خبر زندہ رہا

زندگی سے سیکھ کر ہم مرگئے
زندہ رہنے کا ہنر زندہ رہا

مر گیا کوئی پرندہ ہاں مگر
ڈائری میں ایک پَر زندہ رہا

زندگی کا پیچھا کرنا ہے مجھے
لوٹ آوں گا اگر زندہ رہا

بس ترا غم دل کے ملبے کے تلے
معجزاتی طور پر زندہ رہا

عمران سیفی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے