وہ کوئے دل ہو کہ اہلِ نظر کے دروازے

وہ کوئے دل ہو کہ اہلِ نظر کے دروازے
کھلے ہیں تیرے لئے شہر بھر کے دروازے
کسی کی آس پہ تصویر آرزو بن کر
کھڑے ہیں کب سے مرے ساتھ گھر کے دروازے
ہمیں بھی آیا نہ دل میں اتارنے کا ہنر
نظر نہ آئے اسے بھی نظر کے دروازے
کبھی سفر ، کبھی آوارگی نہیں جاتی
ترس گئے ہیں مجھے میرے گھر کے دروازے
غزل کی آہٹیں سن کر چٹکنے لگتے ہیں
کمالِ شوق سے میرے ہنر کے دروازے
زبان و حرف و سماعت پہ ایک سکتہ ہے
کھلے ہیں سچ پہ بظاہر خبر کے دروازے
طلب ہے منزلِ عرفان و آگہی لیکن
مجھے قبول نہیں خیر و شر کے دروازے
ابھی تو آئی تھی شب میرے غم کدے میں سعید
ابھی سے ڈھونڈ رہی ہے سحر کے دروازے
سعید خان 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے