وہ کون ہے جو پس چشم تر نہیں آتا

وہ کون ہے جو پس چشم تر نہیں آتا

سمجھ تو آتا ہے لیکن نظر نہیں آتا

اگر یہ تم ہو تو ثابت کرو کہ یہ تم ہو

گیا ہوا تو کوئی لوٹ کر نہیں آتا

یہ دل بھی کیسا شجر ہے کہ جس کی شاخوں پر

پرندے آتے ہیں لیکن ثمر نہیں آتا

یہ جمع خرچ زبانی ہے اس کے بارے میں

کوئی بھی شخص اسے دیکھ کر نہیں آتا

ہماری خاک پہ اندھی ہوا کا پہرہ ہے

اسے خبر ہے یہاں کوزہ گر نہیں آتا

یہ بات سچ ہے کہ اس کو بھلا دیا میں نے

مگر یقیں مجھے اس بات پر نہیں آتا

نظر جمائے رکھوں گا میں چاند پر تابشؔ

کہ جب تلک یہ پرندہ اتر نہیں آتا

عباس تابش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے