وہ جو ہر لب پہ ہے رنگین فسانے کی طرح

وہ جو ہر لب پہ ہے رنگین فسانے کی طرح
اس پہ تقدیر بھی مائل ہے زمانے کی طرح
اس کا شیوہ نہ سہی مہر و محبت لیکن
دوست ہو کر کوئی ملتا ہے زمانے کی طرح؟
وہ بھی کھوئے ہوئے راہی کی طرح گُم صُم ہے
میں بھی چُپ ہوں کسی گمنام ٹھکانے کی طرح
اس سے تجدیدِ محبت کی طلب کیا کیجئے
اب وہ اقرار بھی کرتی ہے بہانے کی طرح
عکس در عکس اسے دیکھتی رہتی ہے سعید
آنکھ بے بس ہے کسی آئینہ خانے کی طرح
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے