وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا

وہ جانے کس بات پہ میرے سینے لگ کر رویا تھا
بے موسم سرسوں پھولی تھی کھیتوں کا منہ پیلا تھا
سمہے سہمے دن تھے کوئی خوف تھا میرے سینے میں
پچھلے سال اسی موسم میں تیرا ماتھا چوما تھا
پیاس کی حرمت بھول رہے ہو لیکن اتنا یاد رہے
پہلے میرے لب سوکھے تھے بعد میں دریا سوکھا تھا
لگتا ہے کہ میرے بعد بہت سے لوگ یہاں آئے
پچھلی بار میں جب آیا تھا رستہ اونچا نیچا تھا
تم نے یونہی جلدی کی ہے اس سے رشتہ توڑ لیا
ویسے چاہے جیسا ہوگا، دانش بندہ اچھا تھا
دانش نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے