وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے

وہ جان بوجھ کے مجھ کو اداس رکھتا ہے
وگرنہ اس کا اداسی پہ بس تو چلتا ہے
اسے یقین ہی اتنا ہے میرے سینے پر
کسی کا رونا ہو میرے گلے سے لگتا ہے
تمہارا سب سے برا خواب بھی نہیں ویسا
ہمارے ساتھ حقیقت میں جیسے ہوتا ہے
جو لوگ خوش ہیں محبت میں ان سےپوچھوں گا
یہ کاروبار سہولت سے کیسےچلتا ہے
میں اس کے ہاتھ کو چوموں گا پھر بتاوں گا
کہ اس کا جسم دہکتا ہے یا مہکتا ہے
دانش نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے