وہ ہجر ، وہ ستم کہاں

وہ ہجر ، وہ ستم کہاں
وہ تاب و ضبطِ غم کہاں
بجھی بجھی سی آنکھ میں
کمالِ جامِ جم کہاں
کہاں گئیں اُداسیاں
فشارِ چشمِ نم کہاں
کبھی پلٹ کے آئے جو
صدا میں اتنا دم کہاں
میں قتلِ جاں پہ چپ رہوں
مزاج میں وہ خم کہاں
خراش دل پہ ثبت ہے
ہوا ہے درد کم کہاں
یہ راستوں سے پوچھنا
کہ کھو گئے تھے ہم کہاں
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے