وہ عہد تم نے توڑ دیا جس پہ بیشمار

وہ عہد تم نے توڑ دیا جس پہ بیشمار
پچھلے پہر کے ڈوبتے تارے گواہ تھے
اب جو بھی کہہ رہے ہو بجا ہے درست ہے
ہم کج خیال و کج سخن و کج نگاہ تھے
با وصفِ احتیاط و بہ ایں تجرباتِ دہر
محسوس ہو رہا ہے کہ گم کردہ راہ تھے
لیکن ہے دل کو صبر ، کھلا ہے یہ جب سے راز
تم باعثِ گناہ نہیں تھے گناہ تھے
یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
ساتھ چل موجِ صبا ہو جیسے
لوگ یوں دیکھ کر ہنس دیتے ہیں
تو مجھے بھول گیا ہو جیسے
موت بھی آئی تو اس ناز کے ساتھ
مجھ پہ احسان کیا ہو جیسے
ایسے انجان بنے بیٹھے ہو
تم کو کچھ بھی نہ پتا ہو جیسے
ہچکیاں رات کو آتی ہی رہیں
تو نے پھر یاد کیا ہو جیسے
زندگی بیت رہی ہے دانش
اک بے جرم سزا ہو جیسے
احسان دانش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے