وہ دریچے میں کب نہیں آتا

وہ دریچے میں کب نہیں آتا
جب ضرورت ہو تب نہیں آتا
کوئی تو بات اس میں ہے موجود
یاد وہ بے سبب نہیں آتا
اس کی بے اعتنائی پر رونا
پہلے آتا تھا، اب نہیں آتا
پیار میں یاد ہے جدائی مجھے
یہ سبق سب کا سب نہیں آتا
آپ جینے کی بات کرتے ہیں
ہم کو مرنے کا ڈھب نہیں آتا
با ادب! بارگاہِ حسن ہے یہ
یاں کوئی بے ادب نہیں اتا
حسن اُس کی بڑی نشانی ہے
اُس کا نام و نسب نہیں آتا
بات اُس کو عدیم آتی ہے
بات کرنے کا ڈھب نہیں آتا
عدیم ہاشمی 

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے