وہ چھپ چھپ کے ملاقاتیں

وہ چھپ چھپ کے ملاقاتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھکو
کہی تیری سبھی باتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھکو
وہ بادل کا گرج جانا، تیرا مجھ سے لپٹ جانا
محبت کی کراماتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھکو
پہروں بیٹھ کر اکثر، بناتے چاند پر تھے گھر
جو سنگ جاگیں سبھی راتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھکو
تمھیں خوش دیکھنے کو بس، میں خود ہی ہار جاتا تھا
تیری ہر جیت، میری ماتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھکو
میں نے اک بار پوچھا تھا، اگر میں نہ ملوں تم کو؟
تیری آنکھوں کی برساتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھکو
کبھی مانگتے تھے ہم، طاق راتوں میں جو حاوی
وہ ہر منت، مناجاتیں، ابھی تک یاد ہیں مجھکو
طارق اقبال حاوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے