وہ اپنی سوچ میں ترمیم کرنے والا تھا

وہ اپنی سوچ میں ترمیم کرنے والا تھا
مرے مقام کو تسلیم کرنے والا تھا

وہ اس لیے بھی بہت یاد آ رہا ہے مجھے
وہ دوست عزت و تکریم کرنے والا تھا

اسی سبب مری آنکھیں نکال دی گئی ہیں
میں روشنی یہاں تقسیم کرنے والا تھا

بدن سے روح بھی پرواز کر گئی اس وقت
زمانہ جب مری تعظیم کرنے والا تھا

اسی سے ان دنوں اندیشہءِ عداوت ہے
جسے اک اسم میں تعلیم کرنے والا تھا

لبِ فرات کوئی تشنہ لب تھا یاد آیا
میں ذکرِ کوثر و تسنیم کرنے والا تھا

عزائی اس نے تشدد سے ہاتھ کھینچ لیا
میں اپنے جرم کو تسلیم کرنے والا تھا

(اعجاز عزائی)

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے