وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے

وہ آنے والا نہیں پھر بھی آنا چاہتا ہے

مگر وہ کوئی مناسب بہانا چاہتا ہے

یہ زندگی ہے یہ تو ہے یہ روزگار کے دکھ

ابھی بتا دے کہاں آزمانا چاہتا ہے

کہ جیسے اس سے ملاقات پھر نہیں ہوگی

وہ ساری باتیں اکٹھی بتانا چاہتا ہے

میں سن رہا ہوں اندھیرے میں آہٹیں کیسی

یہ کون آیا ہے اور کون جانا چاہتا ہے

اسے خبر ہے کہ مجنوں کو راس ہے جنگل

وہ میرے گھر میں بھی پودے لگانا چاہتا ہے

وہ خود غرض ہے محبت کے باب میں تابشؔ

کہ ایک پل کے عوض اک زمانہ چاہتا ہے

عباس تابش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے