واسطہ پڑ گیا اذیت سے

واسطہ پڑ گیا اذیت سے
یعنی چاہا کسی کو شدت سے
پل رہے ہیں جو آستینوں میں
سانپ واقف ہیں میری وحشت سے
رو پڑی پٹڑی جب سوال کیا
کیوں ہے شرمندہ ریل ثروت سے
اب ضروری ہے منہ کے بل گرنا
ہاتھ چھوڑا گیا ہے عجلت سے
اس میں تیرہ شبی مقید ہے
پھوٹ سکتی ہے روشنی خط سے
ہم نے بیزار ہو کے مرنا ہے
ہجر میں سانس کی سہولت سے
گھونسلوں میں مکیں ہے تنہائی
اور اکتائے پیڑ ہجرت سے
پتلیوں پر سفر تمام کیا
آنکھ نے خواب کی مسافت سے
در بدر عمر بھر بھٹکتے ہیں
ہم نکل کر بدن کی جنت سے
ان چراغوں کی زندگی کم ہے
لگ رہا ہے ہوا کی نیت سے
ان کی دستار پر نظر ہو گی
ہاتھ چومیں گے جو عقیدت سے
پیار شاعر سے ہو گیا ہے اسے
اب الجھتی ہے اپنی قسمت سے
میں محبت مزاج تھا ارشاد
لوگ ملتے رہے کدورت سے
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے