وقت جب بے امان ہوتا ہے

وقت جب بے امان ہوتا ہے
مجھ سے وہ بدگمان ہوتا ہے
سر پہ سایہ کشا رہے ، نہ رہے
یار تو سائبان ہوتا ہے
کوئی بھی چھوڑ کر نہیں جاتا
جب خدا مہربان ہوتا ہے
اک شرر سا جو آنکھ سے ٹپکے
وہ محبت کا دان ہوتا ہے
زندگی کے اُداس موسم میں
ایک لمحہ جوان ہوتا ہے
یاد رکھنا عذاب ہے لیکن
بھولنا امتحان ہوتا ہے
چار سانسوں کا فرق ہے ورنہ
بحر بھی خاک دان ہوتا ہے
ٹھیس ناصر بکھیر دیتی ہے
دل وگرنہ جوان ہوتا ہے
 
ناصر ملک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے