وقت جب رنج خد و خال اٹھاتا ہے میاں

وقت جب رنج – خد و خال اٹھاتا ہے میاں
آئینہ دیر تلک اشک بہاتا ہے میاں
تعزیہ کس نے نکالا ہے مرے سینے سے
اک عزادار بہت شور مچاتا ہے میاں
آنکھ میں بھیگنے لگتا ہے اچانک کوئی خواب
ورنہ یہ پانی کہاں موج میں آتا ہے میاں
چاہے اب کچھ نہیں برگد کی گھنی چھاوں میں
کم سے کم بوڑھا کہانی تو سناتا ہے میاں
دست – شفقت تو مرے سر سے اٹھا لے اے دوست
یہ دلاسا مجھے کمزور بناتا ہے میاں
طفل – نو خیز کی تبدیلی پہ حیرانی ہے
کون اس پھول کو بارود بناتا ہے میاں
کوئی ہمدردی شجر کو نہیں ہوتی عاطف
دکھ پرندے کا پرندہ ہی اٹھاتا ہے میاں
عاطف کمال رانا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے