وقت بے وقت یہ پوشاک مری تاک میں ہے

وقت بے وقت یہ پوشاک مری تاک میں ہے
جانتا ہوں کہ مری خاک مری تاک میں ہے
مجھ کو دنیا کے عذابوں سے ڈرانے والو
ایک عالم پس افلاک مری تاک میں ہے
سانپ ہر دشت میں کرتا ہے تعاقب میرا
بحر بے آب کا تیراک مری تاک میں ہے
جمع کرتا ہے شواہد مرے ہونے کے خلاف
در حقیقت مرا ادراک مری تاک میں ہے
ہے مرے گرد حفاظت کے لیے ایک حصار
ہو اگر کوئی غضب ناک مری تاک میں ہے
اس سے کہنا مجھے حاصل ہے تحفظ غیبی
جو پس پردۂ بے چاک مری تاک میں ہے
وہ تو یوں ہے کہ بچاتا ہے بچانے والا
ورنہ اک لشکر سفاک مری تاک میں ہے
اک طرف روح وضو میں نہیں ہوتی شامل
اک طرف سجدۂ ناپاک مری تاک میں ہے
آشنا ایک ہے اس شہر میں عاصمؔ میرا
اور وہ دشمن بیباک مری تاک میں ہے
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے