وقت بے وقت محبت نہیں اچھی ہوتی

وقت بے وقت محبت نہیں اچھی ہوتی
اس قدر پیار کی عادت نہیں اچھی ہوتی

اب مجھے چھوڑ کے جاتے ہو تو جاتے کیوں ہو
تم تو کہتے تھے کہ ہجرت نہیں اچھی ہوتی

جان سے جانے کی نوبت بھی تو آ سکتی ہے
دوستی کرنے میں عجلت نہیں اچھی ہوتی

ایک حد تک تو جنوں قابل توقیر بھی ہے
حد سے بڑھ جائے تو وحشت نہیں اچھی ہوتی

اپنے اجداد سے ورثے میں ملی ہے مجھ کو
لوگ کہتے ہیں بغاوت نہیں اچھی ہوتی

مان لیتے ہیں کبھی بات منا لیتے ہیں
یوں محبت میں حکومت نہیں اچھی ہوتی

اپنی نظروں سے بھی گر جاتا ہے انسان عدید
یہ جو ہوتی ہے ضرورت نہیں اچھی ہوتی

سید عدید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے