فروری 5, 2023
منیر انجم کا ایک اردو کالم

میں ہسپتال میں بیڈ پر پڑا اپنی زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ اور میری زندگی کے گزرے پچاس سال مجھے کسی فلم کی طرح لگ رہے تھے میرا گاڑی میں ایکسیڈنٹ ہوا تھا اور ڈاکٹروں نے میری دونوں ٹانگیں کاٹ دی تھیں ۔ پتا نہیں میرے کون کون سے گناہ کی سزا مجھے مل رہی تھی ۔ میں ایک ہائی پروفائل وکیل تھا اور میرے پاس بڑے بڑے لوگ کیس لے کر آتے تھے ۔اور میں ان سے بھاری فیس وصول کرتا تھا ۔ کئی لوگوں کو تو میں نے ایسے ایسے کیس جتوائے تھے جن میں انکو سزا یقینی تھی ۔ وہ کہتے ہیں نہ پیسہ جیب میں ہو تو قاتل بھی رہا ہو جاتے ہیں ۔ مگر اب میرا کیس اس جج کے سامنے تھا یہاں سے آج تک کوئی نہیں بچا ۔ میں آج سے دو سال پہلے ایک کیس کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ جس میں میں نے اک ایسے شخص کو بچایا تھا جس نے ایک اپنے ایک ملازم کی جان لی تھی ۔ ہوا کچھ یوں تھا ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے اپنے بیٹے کہ کیس کے لیے مجھے ہائر کرنا تھا ۔ کیس کی تفصیل کچھ یوں تھی کہ اس کے بیٹے نے اپنے ملازم کو ایک لڑکی کی وجہ سے قتل کر دیا تھا ۔ اور جس کی جان لی تھی وہ تھوڑے سے غریب تھے۔ اور میرے پاس جو آدمی آیا تھا وہ بزنس مین تھا اور میں نے بھاری فیس کے ساتھ وہ کیس اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ تھوڑی سی تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ مقتول اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا ۔ اور اس کی تین بہنیں تھیں اور اس کے والد بھی بیماری کی وجہ سے بستر پر پڑے ہوۓ تھے ۔ میرا کیس میں سب سے پہلے یہ کام ہوتا تھا کہ میں مقتول کے گھر جا کر موقعے کی مناسبت سے ان کو خریدنے کی کوشش کرتا تھا ۔ اگر تو میں اس میں کامیاب ہوجاتا تو کیس عدالت میں جانے سے پہلے ہی حل ہو جاتا ۔ اس دن بھی ایسا ہی ہوا میں اس کے گھر گیا اور میں نے دروازہ کھٹکھٹایا ۔ اور تھوڑی دیر بعد ایک چھوٹی سی بچی نے دروازہ کھولا ۔ اور کہا انکل جی آپ کو کس سے ملنا ہے اس بچی کو دیکھنے سے یہ لگ رہا تھا کہ اس کی عمر تقریبا بارہ سال ہے ۔ میں نے اس سے کہا گھر میں کوئی بڑا ہے ۔تو وہ اندر چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد ایک عورت دروازے پر آئی ۔ اس عورت کے چہرے سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ صدمے میں تھی ۔ پھر میں اس کے ساتھ اندر چلا گیا ۔ اور گھر کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ کیسے زندگی بسر کر رہے ہیں اس عورت نے چائے بنا کر مجھے دی اور میرے پوچھنے پر اس عورت نے اپنے بیٹے کا سارا ماجرا مجھے بتایا ۔ کہ اسکا بیٹا کسی پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھا اور اس کمپنی کے مالک کے بیٹے نے اس کو قتل کر دیا تھا ۔ میرے بیٹے کی جس لڑکی سے شادی ہونا تھی۔وہ مالک کا بیٹا اسی کو پسند کرتا تھا اور اسی کی وجہ سے دونوں میں جھگڑا ہوا اور اس نے میرے بیٹے کو بے دردی سے کام والی جگہ پر قتل کردیا ۔ اور عورت نے جس درد بھرے انداز میں مجھے یہ سارا کچھ بتایا تھا ۔اگر وہ درد میں اس وقت محسوس کر لیتا تو شاید آج میری ٹانگیں میرے جسم کے ساتھ ہوتی ۔ بہرحال اس عورت کی بات سن کر میں نے اس کو آگے سے سمجھا کر خریدنے کی کوشش کی ۔ تو اس عورت نے آگے سے کہا ہمیں پیسے نہیں ہمیں انصاف چاہیے ۔ اگر آپ ہماری مدد نہیں کر سکتے تم اللہ ہماری مدد ضرور کریں گے ۔
اور میں ہنس کر وہاں سے آ گیا اور تھوڑی سی محنت اور کچھ گواہ بنا کر اس لڑکے کی موت کو حادثہ بنا کر ہم نے وہ کیس جیت لیا ۔ اور جس دن ہم نے کیس جیتا تھا اسی دن اس لڑکے کی والدہ بھی عدالت میں موجود تھی ۔ اور ہم نے ایسے جھوٹے گواہ بنائے تھے ان کو دیکھ دیکھ کر وہ میری طرف بھی دیکھ رہی تھی ۔ اور شاید دل کے اندر مجھے بد دعائیں دے رہی تھی اور اسی عدالت میں وہ عورت بھی ہارٹ اٹیک کے ساتھ وفات پا گئی تھی ۔ شاید اس کو اس بات کا یقین نہیں تھا کہ اس کے بیٹے کی موت کا یوں مذاق بنایا جاۓ گا ۔ مگر مجھے اس وقت پیسے کے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ یعنی کوئی جیئے چاہے مرے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ۔ اور وہ کیسے جیتنے پر میں نے بہت سارا پیسہ کمایا اور اس بزنس میں نے مجھے ایک گھر بھی تحفے میں دیا ۔ میری شادی کو بیس سال ہو چکے تھے اور اللہ تعالی نے مجھے کوئی اولاد نہیں دی تھی ۔ اور آج بستر پر لاچار پڑے مجھے اولاد کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ اور میں سوچ رہا تھا کہ اللہ تعالی نے مجھے اولاد اس لیے نہیں دی کہ میں دوسروں کی اولاد کا بھی احساس نہیں کرتا تھا ۔ حیرانگی کی بات یہ بھی ہے کہ جس لڑکے نے اس لڑکے کو قتل کیا تھا چند دن پہلے وہ بھی ایکسیڈنٹ میں ہلاک ہو گیا ۔ اور میں بھی اپنے کیے ہوئے کی سزا بھگت رہا تھا ایسی سزا جس سے آزادی صرف موت ہی دلا سکتی تھی ۔آج مجھے اس بات کا احساس ہو رہا تھا ۔ کہ بطور وکیل میری کیا ذمہ داری تھی اور میں نے اپنی وکالت کا ناجائز استعمال کیا ۔ اور ہمیشہ جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا آج میری کمائی ہوئی دولت صرف بینکوں تک محدود تھی زیادہ سے زیادہ میں لکڑی کی ٹانگیں لگوا سکتا تھا ۔ اگر میں ایمانداری سے اپنا کام کرتا تو وہ شاید مجھے یہ دن دیکھنا نہ پڑتا ۔ اس کے بعد میں نے اپنی دولت میں سے کافی پیسہ ان کے گھر والوں اور بہت سے غریبوں میں تقسیم کر دیا ۔ آج میں ویل چیئر پر بیٹھ کر وکالت کرتا ہوں اور اپنے لئے ایک مستقل ملازم رکھا ہوا ہے اور میں کیس کو اپنے ہاتھ میں لینے سے پہلے اس کو اچھی طرح پڑھتا ہوں ۔ اور صرف غریبوں کے کے کیس لڑتا ہوں اور ان سے فیس بھی نہیں لیتا

منیر انجم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے