وجود خاک سے باہر نکال دے گا وہ

وجود خاک سے باہر نکال دے گا وہ
مجھے بھی اپنے سراپے میں ڈھال دے گا وہ
میں جانتا ہوں محبت میں ہارنے کے بعد
سبھی کے سامنے میری مثال دے گا وہ
شکوہ بخت پہ مسرور شخص کو آخر
کسی فقیر کے قدموں میں ڈال دے گا وہ
میں اس کے حق میں یہاں آخری دعا گو ہوں
مجھے بھی اپنی صفوں سے نکال دے گا وہ
کوئی تو شکل ہے موجود مجھ میں بھی شہزادؔ
میں سنگ ہوں تو مجھے خد و خال دے گا وہ
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے