وفاقی وزراء سر ٹیفکیٹ پرسیاسی ردعمل

وزیراعظم عمران خان نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی 10 وزارتوں میں تعریفی اسنادتقسیم کیں۔ بہترین کارکردگی میں مرادسعیدکی وزارت مواصلات پہلے، اسدعمرکی وزارت منصوبہ بندی دوسرے، ثانیہ نشتر کی سماجی تحفظ وتخفیف غربت کی وزارت تیسرے، شفقت محمودکی وزارت تعلیم چوتھے، شیریں مزاری کی وزارت انسانی حقوق پانچویں، خسروبختیارکی وزارت صنعت وپیداوارچھٹے، مشیربرائے قومی سلامتی معیدیوسف ساتویں، عبدالرزاق داؤدکی وزارت تجارت آٹھویں، شیخ رشیدکی وزارت داخلہ ۹ویں اورفخرامام کی نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی وزارت 10 ویں نمبرپررہی۔ بہترین کارکردگی دکھانے والی وزارتوں کے ملازمین کوضافی الاؤنس دیاجائے گا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزادارباب نے اس موقع پربتایاکہ پانچ وزارتوں کی کارکردگی ۰۹ فیصدسے زائدرہی۔
رواں سال دوہزاربائیس عیسوی کادس فروری کادن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس لحاظ سے یادگاردن بن چکاہے کہ وزیراعظم نے بہترین کارکردگی کامظاہرہ کرنے پر10 وفاقی وزارتوں میں تعریفی اسنادتقسیم کیں۔ ہم یہ تونہیں جانتے کہ وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے کیاکیامعیارمقررکیاگیا، ان کی کار کر دگی جانچنے کے لیے کون ساپیمانہ مقررکیاگیا۔ وزارتوں کی کارکردگی جانچنے کے لیے جوبھی معیاراورپیمانہ مقررکیاگیا۔ جب سے وزیراعظم نے اپنے وزراء میں تعریفی اسنادتقسیم کی ہیں عوام میں اس بات پربحث کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان درست کہتے ہیں کہ سزاوجزاکے بغیرنظام کام یاب نہیں ہوسکتا۔ ہم بھی اس بات کے حق میں ہیں کہ زندگی کے تمام شعبوں میں بہترین کارکردگی دکھانے والوں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اورکارکردگی نہ دکھانے والوں کی حوصلہ شکنی بھی ہو نی چاہیے۔جس طرح وزیراعظم نے بہترین کارکردگی دکھانے پر10 وزارتوں میں تعریفی اسنادتقسیم کیں۔ اسی طرح سب سے کم کارکردگی دکھانے والی وزارتوں کوکم سے کم انتباہ ہی جاری کردیتے۔ جہاں ایک طرف بہترین کارکردگی دکھانے والوں میں تعریفی اسنادتقسیم کرکے عوام کوبتایاگیاکہ حکومت کے ان وزراء کی کارکردگی اچھی رہی اسی طرح کارکردگی نہ دکھانے والی وزارتوں کوانتباہ جاری کرکے عوام کوان کی کارکردگی سے بھی آگاہ کیاجاناچاہیے تھا۔ قوم کواس بات کاافسوس ہے کہ شاہ محمودقریشی، فوادچوہدری، فرخ حبیب، پرویزخٹک،شوکت ترین، علی محمدخان۔شبلی فراز، حماداظہر، پیرنورالحق قادری اوراعظم سواتی کی وزارتیں کارکردگی جانچنے والوں کومتاثرنہ کرسکیں اورتعریفی اسنادوصول کرنے سے محروم رہیں۔

ایک قومی اخبارکی خبرکے مطابق وزیراعظم کی طرف سے بعض وزراء کوکارکردگی ایوارڈ دینے پرحکومتی بینچوں میں بھی چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں اوربعض وزراء زیرلب گلہ کرنے لگ گئے۔وزیرپارلیمانی اموربھی شکوہ گروپ میں شامل ہوگئے اورقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں میں اظہارکرگئے۔علی محمدخان نے کہا کہ جووزراء اپنی ذمہ داریاں ادانہیں کرتے،متعلقہ قائمہ کمیٹیزمیں نہیں آتے۔ ایوارڈ کے حق دارٹھہرتے ہیں۔ چیئرمین یقین دہانی کمیٹی کی جانب سے ایجنڈے کے مطابق متعلقہ وزراء،سیکرٹریزبلانے کی حمایت کرتاہوں بطورپارلیمانی امور وزیر حکومتی وزراء کی طرف سے ان کی وزارتوں سے متعلق یقین دہانی کراتاہوں،بعض وزراء ان یقین دہانیوں سے ایوان میں اظہارلاتعلقی کردیتے ہیں مگرایوارڈ کے حق داربھی وہی ہیں۔ دوسری جانب فوادچوہدری نے بھی دبے لفظوں میں کہاکہ ہم اس لیے جگہ نہیں بناسکے کہ کارکردگی ان پروجیکٹس پرعملدرآمدسے جانچی جاتی ہے جووزارت وزیراعظم آفس کودیتی ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے وزیراعظم کے معاون خصوصی شہزادارباب کولکھے گئے خط میں وزارتوں کی کارکردگی جا نچنے کے طریقہ کارپرسوالات اٹھائے ہیں۔ ان کاکہناہے کہ پہلے ۰۱ نمبروں میں رکھنے کی بجائے ۱۱واں نمبردینے پرشدیدتشویش ہے۔پرفارمنس ایگری منٹ کی پہلی سہ ماہی میں وزارت خارجہ نے ۶۲ میں سے ۲۲،جب کہ دوسری سہ ماہی میں ۴۲ میں سے ۹۱ اہداف حاصل کیے ہیں۔ریویوپیریڈ میں کوئی معاملہ زیرالتواء نہ رہنے کوبھی یقینی بنایاگیا۔اس کے ساتھ وزارت خارجہ نے اعلیٰ سطح کی سرگرمیاں کرنے میں بھی بہترکارکردگی کامظاہرہ کیا۔وزارت خارجہ کے کاموں پرکسی تشویش کابھی کوئی اظہارنہیں کیاگیاجب کہ ۰۳ فیصد کارکردگی جائزہ سے متعلق کوئی تحریری گائیڈلائنزبھی نہیں دی گئیں۔ لہٰذا وزارت خارجہ کی یہ گریڈنگ ریویوکمیٹی کے طریقہ کارپرسوالات اٹھاتی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزراء میں کارکردگی کی بنیادپرسر ٹیفکیٹ بانٹنے کے معاملے پرایم کیوایم کے خالدمحمودصدیقی نے بھی میڈیا نمائندوں سے گفتگومیں طریقہ کارپراعتراض اٹھادیا۔وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں نہ پاکستان اورنہ بیرون ملک ایسی کوئی مثال دیکھی۔دنیامیں ایسی کوئی مثال نہیں جہاں وزراء کی کارکردگی جانچنے کے لیے مقابلے کرائے جائیں۔ایسے اقدامات سے حکومت کی غیرسنجیدگی کاتاثرسامنے آتاہے۔ وزیرداخلہ شیخ رشید ۹واں نمبر ملنے پرخوش ہیں۔ اپوزیشن لیڈراورمسلم لیگ ن کے صدر شہبازشریف نے وزراء اورمشیروں کے لیے تعریفی اسناددینے پراپنی ٹویٹ میں ردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ حقائق عمران خان کے کھوکھلے لیکچروں کامنہ چڑارہے ہیں۔ عمران خان کااخلاقیات پردرس اپنی حکومت کی تاریخی کرپشن،ریکارڈ خساروں، بے روزگاری اورتاریخی نااہلی چھپانے کی کوشش ہے۔ لیکن وہ کسی کوبیوقوف نہیں بناسکتے۔ ملتان میں ورکرکنونشن میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کاکہناتھا کہ عمران خان نے اپنے دس چمچوں میں سر ٹیفکیٹ بانٹ دیے۔سی پیک منصوبے کوروکنے والے وزیرکوسر ٹیفکیٹ دیاجس نے نیاصوبہ بنانے کاوعدہ کیاتھااسے سر ٹیفکیٹ دیاانہوں نے ایک وزیرکودوسرا سر ٹیفکیٹ دیا جسے ایک وزرات سے ہٹاکراب منصوبہ بندی کے وزیرہیں۔ لانگ مارچ کے دوران عمران خان کودکھائیں گے کہ آپ کی کارکردگی پرعوام کیارائے ہے۔ جے یوآئی کے سربراہ فضل الرحمن نے کہاہے کہ ملک کی تباہی وبربادی کے ذمہ داروزراء کوتعریفی اسناددیناانتہائی مضحکہ خیزہے۔معلوم نہیں کس بنیادپرتعریفی اسنادجاری کیے گئے، عوام پریشان جبکہ حکومت کے احمقانہ چونچلے ہی ختم نہیں ہورہے،جس دن یہ وزراء عوام میں آئیں گے تب ان کومعلوم ہوگاکہ یہ تعریف کے مستحق ہیں یا تنقیدکے۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے وزراء کوسر ٹیفکیٹ اوراسناددینے کے عمل کوتنقیدکانشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان صاحب نے وزارتوں کی کارکردگی رپورٹ نہیں بلکہ اپنی فیلڈ کارکردگی پیش کی ہے۔فیل وزارتیں نہیں عمران خان صاحب کی وزارت عظمیٰ ہے۔ان کاکہناتھا کہ جوجووزیرفیل ہوئے ہیں وہ دکھی نہ ہوں بلکہ مزیدچوری، لوٹ ماراورجھوٹ پرتوجہ دیں۔جن جن وزارتوں سے عوام کوریلیف ملناتھا وہ سب فیل ہوئے یہ ایوارڈ عوام کے ساتھ مذاق ہیں۔ ان کاکہناتھا کہ عمران خان کوکاکردگی کے نہیں آٹا،چینی، بجلی،گیس،دوائی اورچوری کے ایوارڈ دینے چاہییں، فیل وزیراعظم کارکردگی کے ایوارڈ بانٹ رہے ہیں یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے۔ جب تک فیل وزیراعظم گھرنہیں جائے گامعیشتم دفاع، خارجہ،پٹرولیم، توانائی اوراطلاعات سب فیل ہوں گے جب کہ وزارت خارجہ، دفاع، معیشت،خزانہ پرعمران خان نے خودعدم اعتمادکردیاہے۔ جس وزیراعظم کی معیشت، خارجہ اوردفاع سب فیل ہوگئے ہوں وہ وزیراعظم کارکردگی کے ایوارڈ بانٹ رہاہے۔ مریم اورنگ زیب نے کہاکہ ان کی کارکردگی صرف جھوٹ بولنا، قوم کودھوکہ دینااورلوٹناہے۔عمران خان صاحب اب کارکردگی سر ٹیفکیٹ کانہیں گھرجانے کاوقت ہے۔پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمن کاکہناہے کہ وزیراعظم نے بہترین کاکردگی دکھانے والے وزراء کوتعریفی سر ٹیفکیٹ دیے جوقوم کے ساتھ ایک اورمذاق ہے۔ حکومت کی تین سالہ کارکردگی بدانتظامی، کرپشن اورناکامیوں سے بھری ہوئی ہے۔ کون سی وزارت ہے جس کی وجہ سے ملک میں بحران پیدانہیں ہوا۔ سینیٹرمولابخش چانڈیونے کہاہے کہ بدترین کارکردگی پروزراء میں سر ٹیفکیٹ تقسیم کرنے پرعمران خان کانام گینزبک میں لکھا جانا چاہیے۔ کارکردگی سر ٹیفکیٹ کاسارامیلہ مرادسعیدکونوازنے کے لیے سجایاگیا۔عمران خان نے اپنے چہیتے مرادسعیدکوخوش کرنے کے لیے دوسروں کوبھی سر ٹیفکیٹ دے دیے۔ کارکردگی کااصل سر ٹیفکیٹ توعوام دیں گے۔لیگی راہنماعظمیٰ بخاری نے کہاہے کہ پاکستان کے عوام مہنگائی کے سونامی میں پس رہے ہیں اورظل تباہی اپنے چہیتے وزراء کوشیلڈ دے رہے ہیں۔ جیسی کارکردگی عمران خان کی ہے اس سے بدتر کار کردگی ان کے وزراء کی ہے۔کسی بھی شعبہ میں چاہے وہ وزارت ہی کیوں نہ ہوکی بہترکارکردگی کوسراہنا،تعریفی سر ٹیفکیٹ دینا،ایوارڈ دیناایساکام نہیں ہے جس پرتنقیدکی جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے جن وزاء کوایوارڈ دیے ہیں ان کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے۔ اب آپ جوواقعہ پڑھنے جارہے ہیں اس کاوزراء کوکارکردگی سر ٹیفکیٹ دینے سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ نے ایسا سمجھاتویہ آپ کااپناخیال ہوگا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک پرائیویٹ سکول میں زیرتعلیم ایک طالب علم اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ (رزلٹ کارڈ) لے کر گھر آیا اس نے اپنی یہ رپورٹ اپنے والدین اوربھائیوں کودکھائی۔اس طالب علم کی یہ رپورٹ دیکھ کراس کے والدین اوربھائی بہت خوش ہوئے کہ اس نے تمام مضامین میں اتنے اچھے نمبرلیے ہیں۔ اس طالب علم کی تعریف کرنے لگ گئے۔ دوسرے دن اس طالب علم کابڑابھائی اس کے سکول گیاخوشی خوشی اس کے استادصاحب سے ملا۔ تمام مضامین میں اچھے نمبرلینے والے طالب علم کی خوشی اس وقت پریشانی میں تبدیل ہوگئی جب استادصاحب نے اسے بتایاکہ ہم نے یہ جوتیرے بھائی کی کار کردگی رپورٹ جاری کی ہے اوراسے تمام مضامین میں اتنے نمبردے دیے ہیں یہ سب لوگوں کودکھانے کے لیے ہیں۔ ہم نے لوگوں کواپنے سکول کی کارکردگی دکھائی ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ تمہارے بھائی کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے۔ تمہارا بھائی محنت نہیں کرتا۔ اس پرتوجہ دیں۔

محمد صدیق پرہار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔