واں زیرکی پسند نہ ادراک چاہئے

واں زیرکی پسند نہ ادراک چاہئے
عجز و نیاز دیدۂ نمناک چاہئے
آئینہ بن کہ شاہد و مشہود ایک ہے
اس روئے پاک کو نظر پاک چاہئے
سیر و سلوک جاں نہیں بے جذبۂ نہاں
اس راہ میں یہ توسن چالاک چاہئے
گزرے امید و بیم سے یہ حوصلہ کسے
رند خراب و عارف بے باک چاہئے
ہر چشمہ آئنہ ہے رخ آفتاب کا
ہاں سطح آب بے خس و خاشاک چاہئے
نشو و نمائے سبزہ و گل میں نہیں درنگ
ابر کرم کو تشنگیٔ خاک چاہئے
اصلاح حال عاشق دل خستہ ہے ضرور
معشوق جور پیشہ و سفاک چاہئے
جو عین نائے نوش ہو اس بادہ نوش کو
جام و سبو نہ خمکدہ و تاک چاہئے
صیاد کے اثر پہ رواں ہو تو صید ہے
وہ صید ہی نہیں جسے فتراک چاہئے
اسماعیلؔ میرٹھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے