وہ مہکتی پلکوں کی اوٹ سے

وہ مہکتی پلکوں کی اوٹ سے کوئی تارا چمکا تھا رات میں
میری بند مٹھی نہ کھو لیے وہی کوہ نور ہے ہات میں

میں تمام تارے اٹھا اٹھا کے غریب لوگوں میں بانٹ دوں
کبھی ایک رات وہ آسمان کا نظام دیں میرے بات میں

ابھی شام تک مرے باغ میں کہی کوئی پھول کھلا نہ تھا
مجھے خوشبوؤں میں بسا گیا ترا پیار ایک ہی رات میں

ترے ساتھ اتنے بہت سے دن تو پلک جھپکتے گذر گئے
ہوئی شام کھیل ہی کھیل میں کٹی رات بات ہی بات میں

کوئی عشق ہے کہ اکیلا ریت کی شال اوڑھ کے چل دیا
کبھی بال بچوں کے ساتھ آ یہ پڑاؤ لگتا ہے رات میں

کبھی سات رنگوں کا پھول ہوں کبھی دھوپ ہوں کبھی دھول ہوں
میں تمام کپڑے بدل چکا ترے موسموں کی برات میں

بشیر بدر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے