Vo Jin Ke Naqsh

وہ جن کے نقش قدم دیکھنے میں آتے ہیں

اب ایسے لوگ تو کم دیکھنے میں آتے ہیں

کہیں نہیں ہے منارہ نہ منبر و محراب

محل سرا سے حرم دیکھنے میں آتے ہیں

طواف کوئے سخن ختم ہی نہیں ہوتا

کوئی نہیں ہے تو ہم دیکھنے میں آتے ہیں

اٹے ہوئے ہیں غبار شکستگی میں سلیمؔ

جو آئینے پس غم دیکھنے میں آتے ہیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے